wellness
کراچی کے اسکولوں میں امتحانی تناؤ کم کرنے کے لیے روزانہ مائنڈفلنس پروگرام شروع
2026 کی پہلی ششماہی میں کراچی کے متعدد اسکولوں نے امتحانی دباؤ سے نمٹنے کے لیے طلبہ کے لیے روزانہ مائنڈفلنس سیشن متعارف کرائے۔
سنیں اردو · 3 منٹ
ہم نے یہ کیسے رپورٹ کیا
کراچی کے متعدد نجی اسکولوں نے جنوری تا مارچ 2026 کے دوران طلبہ کے لیے منظم مائنڈفلنس اور مراقبہ پروگرام شروع کیے ہیں۔
بورڈ امتحانات قریب آتے ہی طلبہ میں بے چینی اور اضطراب میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور صدر اور کلفٹن کے کلینکس میں نوجوانوں کی آمد بڑھ گئی ہے۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان نئے سیشنز کا مقصد بچوں کو آنے والے ہفتوں میں امتحانات سے پہلے توجہ اور سکون برقرار رکھنے کے لیے روزمرہ کے آسان طریقے فراہم کرنا ہے۔
دو کراچی اسکولوں میں جاری پروگرام
کلفٹن میں خیابانِ جامی پر واقع لائسیم اسکول میں چھٹی سے دسویں جماعت کے طلبہ کے لیے ہر صبح 15 منٹ کی گائیڈڈ سانس لینے کی مشق کرائی جاتی ہے۔ یہ سیشن مقامی تنظیم 'مائنڈفل کراچی' کے تربیت یافتہ اساتذہ باقاعدہ کلاس رومز میں چلاتے ہیں۔ اسی طرح، مین خیابانِ شہباز پر واقع بیکن ہاؤس پی ای سی ایچ ایس کیمپس میں ساتویں سے نویں جماعت کے طلبہ کے لیے ہفتے میں دو بار آخری گھنٹی کے بعد مراقبہ سرکل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ دونوں پروگرام سردیوں کی چھٹیوں کے بعد شروع ہوئے اور موجودہ ٹرم تک جاری رہیں گے۔
والدین لائسیم پروگرام کوآرڈینیٹر سے خیابانِ جامی پر اسکول آفس میں رابطہ کر سکتے ہیں، جبکہ بیکن ہاؤس کے سیشنز کے لیے مین خیابانِ شہباز پر کیمپس انتظامیہ سے رجسٹریشن کرائی جا سکتی ہے۔ کسی پیشگی تجربے کی ضرورت نہیں، اور ان سرگرمیوں میں صرف سانس گننے اور مختصر باڈی اسکین جیسے آسان طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔
اعداد و شمار اور آئندہ اقدامات
مئی 2026 میں جاری کردہ سندھ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک جائزے کے مطابق شہر کے 28 فیصد نجی ثانوی اسکولوں میں اب کسی نہ کسی شکل میں مائنڈفلنس سرگرمی ہو رہی ہے۔ جن اسکولوں میں یہ سیشن پہلے سے جاری ہیں، وہاں ٹرم فیس میں اوسطاً 250 روپے فی طالب علم فی ماہ کا اضافہ ہوا ہے۔ جو خاندان اسکول سے باہر بھی یہ مشق آزمانا چاہتے ہیں، وہ صدر میں عبداللہ ہارون روڈ پر واقع کراچی میڈیٹیشن سینٹر میں ہفتہ کی صبح مفت تعارفی کلاسز میں شرکت کر سکتے ہیں۔
اسکول سربراہان نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ان کے بچے میں امتحانات سے پہلے تناؤ کی علامات ظاہر ہوں تو براہِ راست اساتذہ یا کونسلرز سے بات کریں۔ بہت سے اسکولوں کے پاس مقامی ماہرین کی فہرست موجود ہے جو کلاس رومز میں آ کر یا انہی مقامات پر مختصر والدین ورکشاپس چلا سکتے ہیں۔