wellness
کراچی کے رات کو کام کرنے والے مزدور نیند کی کمی سے صحت کے سنگین بحران کا شکار
رات کی شفٹوں میں ہسپتالوں، کال سینٹروں اور بندرگاہ پر کام کرنے والے لاکھوں کراچی والوں کے لیے ٹوٹی پھوٹی نیند ایک ایسا صحت کا بحران بن چکی ہے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہونے کے باوجود نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
سنیں اردو · 5 منٹ
ہم نے یہ کیسے رپورٹ کیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں تقریباً ہر پانچ میں سے ایک مزدور رات کے اندھیرے میں کام شروع کرتا ہے۔ کراچی کی چوبیس گھنٹے چلنے والی معیشت, جس کی بنیاد کیماری کے کنٹینر ٹرمینلز، کلفٹن اور شاہراہِ فیصل کے بی پی او دفاتر، اور آغا خان یونیورسٹی ہسپتال جیسے اداروں کے ایمرجنسی وارڈ ہیں, اس لیے چلتی رہتی ہے کیونکہ کوئی نہ کوئی ہمیشہ وقت کی پرواہ کیے بغیر ڈیوٹی پر موجود ہوتا ہے۔ نیند کے ماہرین کا موقف ہے کہ اس کی قیمت کارٹیسول کی بڑھتی سطح، دل کی بیماریوں کے خطرے اور عمر کے گھٹنے کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔
وقت کی اہمیت سے انکار نہیں۔ ہارمونز کی صحت سے متعلق عالمی سطح پر جاری بحث, بشمول جسمانی گھڑی کو منظم کرنے میں میلاٹونن کا کردار, نے 2026 میں عوامی شعور کو مزید پختہ کیا ہے۔ میلاٹونن وہ ہارمون ہے جو اندھیرے کا اشارہ دیتا اور نیند طاری کرتا ہے، لیکن مصنوعی روشنی اور بے ترتیب اوقات اسے دبا دیتے ہیں۔ جرنل Sleep Medicine Reviews میں شائع تحقیق کے مطابق رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک کام کرنے والوں میں میلاٹونن کا اخراج تین سے پانچ گھنٹے تک مؤخر ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ہی رکاوٹ گلوکوز کے میٹابولزم میں خرابی، قوتِ مدافعت کی کمزوری اور دائمی تھکاوٹ کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
کراچی میں یہ مسئلہ خاصا سنگین ہے۔ صرف شہر کی کال سینٹر انڈسٹری میں ہی تقریباً چالیس سے پچاس ہزار افراد کام کرتے ہیں، جن میں سے بیشتر امریکی یا خلیجی ٹائم زون کے مطابق ڈیوٹی دیتے ہیں۔ کورنگی انڈسٹریل ایریا اور شاہراہِ قائدین کے قریب آئی ٹی پارکوں میں دوہری اور تہری شفٹیں چلتی ہیں۔ اس میں بابائے اردو روڈ پر سول ہسپتال کی نرسیں اور ٹیکنیشن اور سائٹ انڈسٹریل ایریا کے فیکٹری مزدور بھی شامل کر لیں، تو کراچی کی جھلسا دینے والی اور شوروغل بھری دوپہروں میں سونے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ جاتی ہے۔
تحقیق کیا کہتی ہے
The Lancet Regional Health, Southeast Asia میں 2023 میں شائع ایک جامع تجزیے سے معلوم ہوا کہ شفٹ ورکرز میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ دن میں کام کرنے والوں کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہے، اور یہ خطرہ خوراک سے قطع نظر ہے۔ ایک الگ تحقیق میں جنوبی ایشیائی ہسپتالوں کی بارہ ہزار نرسوں کا جائزہ لیا گیا تو پتا چلا کہ ہفتے میں تین سے زیادہ رات کی شفٹیں کرنے والی نرسیں اوسطاً صرف 5.4 گھنٹے سوتی ہیں، جو امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کی بالغوں کے لیے تجویز کردہ سات سے نو گھنٹے کی حد سے بہت کم ہے۔ ایک ایسے شہر کے لیے یہ محض نظری اعداد و شمار نہیں، جہاں ضلعی ہسپتال رات کو کم سے کم عملے کے ساتھ چلتے ہیں اور فیکٹری سپروائزر 35 سے 45 ہزار روپے ماہانہ پر باقاعدگی سے 12 گھنٹے کی رات کی شفٹیں کرتے ہیں۔
پاکستان میں نیند کے کلینک نہ ہونے کے برابر ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کا سلیپ ڈس آرڈرز سینٹر ملک کے چند منظور شدہ مراکز میں سے ایک ہے جہاں پولی سومنوگرافی, یعنی رات بھر کا مکمل نیند کا معائنہ, کی سہولت موجود ہے، تاہم اس کا خرچ فی سیشن 25 سے 40 ہزار روپے کے درمیان ہے جو زیادہ تر گھنٹہ وار اجرت پر کام کرنے والوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ ہیومن ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن پاکستان پیشہ ورانہ صحت، بشمول نیند کی کمی، کو شہری مزدور فلاح کے شعبے میں ناکافی توجہ پانے والا مسئلہ قرار دے چکی ہے۔ ابھی تک کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے شفٹ ورک سے جڑی صحت کے حوالے سے کوئی شہری پالیسی سامنے نہیں آئی۔
قابلِ عمل اور مؤثر حل
نیند کے ماہرین ایسے چند شواہد پر مبنی اقدامات کی نشاندہی مسلسل کرتے ہیں جن پر بہت کم یا بالکل خرچ نہیں آتا۔ پہلا: چھٹی کے دنوں میں بھی جاگنے کا وقت مقرر رکھیں۔ سونے کے وقت کی بے ترتیبی سے زیادہ جاگنے کے وقت کی بے ترتیبی حیاتیاتی گھڑی کو بگاڑتی ہے۔ صبح سات بجے ڈیوٹی ختم کرنے والا شفٹ ورکر ہر روز، اتوار سمیت، آٹھ بجے سونے کا معمول بنائے۔
دوسرا، روشنی پر قابو۔ کراچی کی گرمیوں میں صبح سات بجے تک سورج اپنا زور دکھانا شروع کر دیتا ہے اور گلشنِ اقبال اور لانڈھی جیسے علاقوں میں جولائی کا درجہ حرارت اکثر 34 سے 36 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے۔ بلیک آؤٹ پردے، جو حیدری مارکیٹ اور طارق روڈ کی گھریلو سازوسامان کی دکانوں پر 1200 روپے فی پینل سے بھی کم میں دستیاب ہیں، روشنی کو اتنا کم کر سکتے ہیں کہ کنٹرولڈ ٹرائلز کے مطابق نیند 45 سے 90 منٹ بڑھ جاتی ہے۔ گھر واپسی پر چاروں طرف سے ڈھکنے والی سنگلاسز پہننے سے صبح کی روشنی کا اثر کم ہوتا ہے اور جگانے کا اشارہ دینے والے کارٹیسول کا اخراج مؤخر ہو جاتا ہے۔
تیسرا، چائے یا کافی کا حساب کتاب۔ 2013 میں Journal of Clinical Sleep Medicine میں شائع تحقیق کے مطابق سونے کے ارادے سے چھ گھنٹے پہلے کے اندر چائے یا کافی پینے سے کل نیند اوسطاً ایک گھنٹہ کم ہو جاتی ہے۔ جو شخص صبح آٹھ سے دوپہر تین بجے تک سوتا ہو، اسے رات دو بجے کے بعد چائے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
چوتھا، خاندانی ماحول کا انتظام۔ رات کی شفٹ کرنے والے کراچی کے مزدور اکثر بیان کرتے ہیں کہ خاندانی ذمہ داریاں, بچے، سسرال، دوپہر کا کھانا, دن میں سونے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ نیند کے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ گھر کے افراد سے دو سے تین گھنٹے کا محفوظ وقت طے کیا جائے اور اسے کام کی شفٹ جتنا ہی لازمی سمجھا جائے۔
جن مزدوروں کو دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے مستقل بے خوابی، موڈ میں تبدیلی یا دن میں حد سے زیادہ نیند کی شکایت ہو، انہیں کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے یا نیند کے ماہر کے پاس بھیجنے کی درخواست کرنی چاہیے۔ جسم کی حیاتیاتی گھڑی ڈھلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مگر اسے مستقل اشاروں کی ضرورت ہے, اور کراچی، اپنے شور اور گرمی کے باوجود، صحیح حکمتِ عملی سے قابو میں آ سکتا ہے۔