wellness
کراچی کے اسکولوں میں مائنڈفلنس پروگراموں کا آغاز, ڈی ایچ اے سے گلشنِ اقبال تک
ڈی ایچ اے سے گلشنِ اقبال تک، کراچی کے بڑھتے ہوئے اسکول کلاس روم میں منظم مراقبہ اور مائنڈفلنس متعارف کرا رہے ہیں, جانیے کیا پیش کیا جا رہا ہے اور ماہرینِ تعلیم کیوں کہتے ہیں کہ اب مزید تاخیر ممکن نہیں۔
سنیں اردو · 6 منٹ
ہم نے یہ کیسے رپورٹ کیا
ماہرینِ تعلیم اور شہر میں کام کرنے والے ویلنس ماہرین کے مطابق، کراچی بھر کے کم از کم ایک درجن نجی اسکولوں نے 2024 کے بعد سے اپنے ہفتہ وار نظامِ تعلیم میں کسی نہ کسی شکل میں منظم مائنڈفلنس یا سانس پر مبنی پروگرام شامل کر لیا ہے۔ یہ تبدیلی خاموشی سے آ رہی ہے لیکن حقیقی ہے, اس کی وجہ ایک طرف طلبہ میں بڑھتی ہوئی ذہنی بے چینی ہے اور دوسری طرف اسکول کونسلرز کا وہ چھوٹا مگر مستقل مزاج گروہ جو وبائی مرض کے دنوں سے ذہنی صحت کے حوالہ جات میں اضافہ ہوتے دیکھتا رہا۔
پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے بچے قابلِ پیمائش ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے 2023 کے ایک سروے میں, جو کراچی سمیت مختلف شہری مراکز میں کیا گیا, یہ بات سامنے آئی کہ ثانوی اسکول کے تقریباً 34 فیصد طلبہ میں طبی لحاظ سے قابلِ ذکر اضطراب کی علامات پائی جاتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہوئے، جس کے بعد کونسلرز اور پرنسپلز کے ہاتھ میں ایک ٹھوس حوالہ آ گیا جسے وہ اسکول بورڈز کے سامنے رکھ سکتے تھے, اور کئی نے ایسا کیا بھی۔
اس وقت کون سے پروگرام چل رہے ہیں
کراچی گرامر اسکول، جس کے کیمپس صدر کے عبداللہ ہارون روڈ اور باتھ آئی لینڈ میں واقع ہیں، نے جنوری 2025 میں اپنے او لیول طلبہ کے لیے دس منٹ کے صبح کے مائنڈفلنس سیشن کی پائلٹ اسکیم شروع کی۔ طریقہ کار سادہ ہے: پہلی کلاس سے پہلے رہنمائی میں سانس لینے کی مشق، ایک مختصر باڈی اسکین ورزش، اور دو منٹ کی خاموش سوچ۔ اسکول نے مائنڈفلنس بیسڈ اسٹریس ریڈکشن پروٹوکول کے تحت تربیت یافتہ ٹرینرز کی خدمات حاصل کیں, یہ آٹھ ہفتوں کا کورس اصل میں 1979 میں یونیورسٹی آف میساچوسٹس میں تیار کیا گیا تھا اور اب اس شعبے میں بین الاقوامی معیار کے قریب ترین حیثیت رکھتا ہے۔
گلشنِ اقبال میں بیکن ہاؤس اسکول سسٹم کے بلاک 13 کیمپس نے ستمبر 2024 میں کراچی کی ویلنس تنظیم سکون ویل بیئنگ کے اشتراک سے ایک زیادہ جامع پروگرام شروع کیا۔ سکون کا تربیتی مرکز طارق روڈ پر واقع ہے اور وہ فیسیلیٹیٹرز کو چوتھی جماعت اور اس سے اوپر کے طلبہ کے لیے عمر کے مطابق مائنڈفلنس ماڈیولز پڑھانے کی تربیت دیتا ہے۔ ان کا اسکول پیکج تیس طلبہ کی کلاس کے لیے ایک ٹرم میں تقریباً 45,000 روپے کا ہے، جس میں ہفتہ وار 25 منٹ کے سیشن، اساتذہ کی تربیت، اور ہر ٹرم میں ایک بار والدین کے لیے معلوماتی شام شامل ہے۔ سکون کی ٹیم کے مطابق 2024-25 کے تعلیمی سال میں کراچی کے چار اسکولوں میں 600 سے زائد طلبہ نے ان کا نصاب مکمل کیا۔
دی سٹیزنز فاؤنڈیشن، جو اورنگی ٹاؤن، کورنگی اور لیاری سمیت کم آمدنی والے محلوں میں 60 سے زائد اسکول چلاتی ہے، نے ایک مختلف اور کم لاگت والا راستہ اختیار کیا ہے۔ 2025 کے اوائل سے منتخب ٹی سی ایف اساتذہ کو لاہور کی غیر سرکاری تنظیم امنگ کے تعاون سے اندرونی طور پر تیار کردہ ماڈیول کے ذریعے بنیادی مائنڈفلنس فیسیلیٹیشن کی تربیت دی جا رہی ہے۔ یہ سیشن طلبہ کے لیے بالکل مفت ہیں اور دوپہر کی کلاسوں کے آغاز میں پانچ سے سات منٹ کے لیے چلائے جاتے ہیں۔ ابھی رسائی محدود ہے, 15 سے کم ٹی سی ایف کیمپس اس میں شامل ہیں, لیکن تنظیم نے دسمبر 2026 تک 40 اسکولوں تک توسیع کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس پیش رفت کے پیچھے شواہد
گزشتہ ایک دہائی میں اسکولوں میں مائنڈفلنس کے حق میں شواہد کافی مضبوط ہو چکے ہیں۔ سائیکولوجیکل بلیٹن میں شائع ہونے والے 2022 کے ایک میٹا تجزیے میں 61 بے ترتیب کنٹرولڈ ٹرائلز کا جائزہ لیا گیا اور یہ نتیجہ سامنے آیا کہ اسکول پر مبنی مائنڈفلنس پروگراموں سے 6 سے 18 سال کی عمر کے بچوں میں اضطراب میں قابلِ پیمائش کمی اور توجہ میں بہتری آئی۔ اثرات معمولی مگر مستقل تھے۔ ناقدین, جن میں یونیورسٹی کالج لندن کے بعض محققین بھی شامل ہیں, نے خبردار کیا ہے کہ ناقص تربیت یافتہ فیسیلیٹیٹرز نتائج کو کمزور یا یہاں تک کہ نقصاندہ بنا سکتے ہیں، اس لیے اساتذہ کی تربیت کا جز, جیسا کہ سکون اور ٹی سی ایف نے شامل کیا ہے, اکثر ماہرین کے نزدیک ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
کراچی میں جوش و خروش انفراسٹرکچر سے آگے نکل رہا ہے۔ کلفٹن اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے متعدد اسکولوں نے باقاعدہ پروگراموں میں دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن ان کے پاس تربیت یافتہ عملہ نہیں۔ کراچی کے سائٹ علاقے میں قائم ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن مبینہ طور پر سرکاری اسکول کے اساتذہ کے لیے ایک کم لاگت فیسیلیٹیٹر سرٹیفیکیشن کورس تیار کر رہی ہے جس کے آغاز کا ہدف اکتوبر 2026 ہے۔
جو والدین ابھی فوری قدم اٹھانا چاہتے ہیں، ان کے لیے سکون ویل بیئنگ اپنے طارق روڈ سنٹر پر ہفتہ آخر کی عوامی ورکشاپس چلاتا ہے, 8 سے 14 سال کے بچوں کے سیشن ہر مہینے کے دوسرے اور چوتھے ہفتے ہفتے کے دن ہوتے ہیں، جن کی فی بچہ فی سیشن قیمت فی الحال 1,200 روپے ہے۔ ادارہ جاتی پروگراموں میں دلچسپی رکھنے والے اسکول پرنسپلز پاکستان اسکول کونسلرز ایسوسی ایشن سے رابطہ کر سکتے ہیں، جو کراچی میں کام کرنے والے تصدیق شدہ مائنڈفلنس فیسیلیٹیٹرز کی ایک جانچی پرکھی فہرست رکھتی ہے۔ کسی بھی اسکول کے لیے عملی قدم سیدھا ہے: کلاس روم میں کچھ بھی پیش کرنے سے پہلے اساتذہ کی تربیت سے شروعات کریں, باقی سب کچھ اسی سے نکلتا ہے۔