property
بلڈ ٹو رینٹ منصوبے اور کرایہ داروں کو ملنے والی سہولیات
کراچی میں نئے بلڈ ٹو رینٹ منصوبے کرایہ داروں کو طویل مدتی لیز اور جدید سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مارگیج کی شرحیں بڑھنے سے گھر خریدنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
سنیں اردو · 4 منٹ
ہم نے یہ کیسے رپورٹ کیا

کراچی کا پہلا بڑا بلڈ ٹو رینٹ کمپلیکس جون 2026 میں شاہراہِ فیصل پر کھل گیا، جہاں 250 دو کمروں کے یونٹ 48,000 روپے ماہانہ مقررہ کرایے پر دستیاب ہیں اور دو سال کی لیز کی سہولت موجود ہے۔
آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی ٹینکروں پر حملوں کے باعث اپریل سے اب تک ایندھن کی قیمتوں میں 22 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جس سے تعمیراتی مواد مہنگا ہو گیا ہے اور بڑے بینکوں میں مارگیج کی شرح 19 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے شہر میں درمیانی آمدنی والے کئی خاندانوں کے لیے فلیٹ خریدنا ناممکن بنا دیا ہے۔
نئے بلاکس میں فراہم کردہ سہولیات
شاہراہِ فیصل کے اس منصوبے میں کرایہ داروں کو کرایے میں ہی چوبیس گھنٹے سیکیورٹی، مشترکہ جم اور ہفتہ وار صفائی کی سہولت شامل ہے۔ اس کے علاوہ گلشنِ اقبال میں راشد منہاس روڈ کے قریب ایک اور منصوبہ زیرِ تعمیر ہے، جس میں کو-ورکنگ لاؤنج اور قریبی اورنج لائن اسٹیشن تک شٹل سروس بھی شامل ہوگی، اور یہ منصوبہ 2027 کے اوائل میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
یہ سہولیات خاص طور پر ان پیشہ ور افراد کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہیں جو اکثر کام کی وجہ سے نقل مکانی کرتے ہیں اور صدر اور کلفٹن کی پرانی نجی عمارتوں میں عام سالانہ 8 سے 12 فیصد کرایہ اضافے سے بچنا چاہتے ہیں۔
کرایہ داروں اور خریداروں کے اخراجات کا موازنہ
اس نئے منصوبے میں 900 مربع فٹ کے دو کمروں پر مشتمل فلیٹ کا ماہانہ کرایہ 48,000 روپے یعنی سالانہ 5 لاکھ 76 ہزار روپے ہے، جبکہ اسی سائز کا یونٹ خریدنے پر قیمت 1 کروڑ 85 لاکھ روپے ہے۔ 30 فیصد ڈاؤن پیمنٹ کے بعد 1 کروڑ 30 لاکھ روپے کا قرض بنتا ہے، جس کی موجودہ شرح پر ماہانہ قسط 2 لاکھ 48 ہزار روپے بنتی ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے درمیان کراچی بھر میں اپارٹمنٹس کی اوسط قیمتوں میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ایک ہی محلے میں خریداری اور کرائے کے اخراجات کے درمیان فرق مزید بڑھ گیا ہے۔
جو افراد کرایے پر رہنا چاہتے ہیں، انہیں چاہیے کہ دستخط کرنے سے پہلے لیز کی شرائط، خاص طور پر مرمت کی ذمہ داریوں کو غور سے پڑھیں اور شامل یوٹیلٹیز کا موازنہ کرنے کے لیے خود جگہ کا دورہ کریں، کیونکہ گلشنِ اقبال منصوبے میں یونٹس کا اگلا بیچ ستمبر میں دستیاب ہونے کا امکان ہے۔
یہ مضمون صرف عمومی معلومات کے لیے ہے اور اسے ذاتی مالیاتی یا سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ کوئی بھی مالیاتی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے حالات کو مدنظر رکھیں اور کسی لائسنس یافتہ پیشہ ور سے رہنمائی حاصل کریں۔